آب خورا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مٹی کا کوزہ، پانی دودھ وغیرہ پینے کا ایک مٹی کا برتن، کلّھڑ۔ "جو آیا غڑپ سے آبخورہ ڈال، پانی پی پٹخ پٹخا چلتا ہوا۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٠٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'آب' کے بعد فارسی مصدر 'خوردن' سے صیغہ امر 'خور' کے ساتھ 'بطور لاحقۂ ظرفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "قادر (قدیم اردو مراثی) میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مٹی کا کوزہ، پانی دودھ وغیرہ پینے کا ایک مٹی کا برتن، کلّھڑ۔ "جو آیا غڑپ سے آبخورہ ڈال، پانی پی پٹخ پٹخا چلتا ہوا۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٠٤ )

جنس: مذکر